دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

سارا دن رابطے میں رہتا ہے

سارا دن رابطے میں رہتا ہے
دل بڑے حوصلے میں رہتا ہے
دوست! تھوڑی سی دیر اور سہی
ایک آنسو گلے میں رہتا ہے
میرا اندھے یقین والا بھی
آجکل وسوسے میں رہتا ہے
عشق اپنے بدن سے ہجرت ہے!
آدمی دوسرے میں رہتا ہے
اس کی باتیں کوئی نہیں سنتا
ہر کوئی دیکھنے میں رہتا ہے

دانش نقوی