سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے
دراصل اداکار حقیقت میں مرے تھے
جاتے ہوئے کمرے کی کسی چیز کو چھو دے
میں یاد کروں گا کہ ترے ہاتھ لگے تھے
آنکھیں بھی تری فتح نہ کر پائے ابھی تک
کس لمحۂ بیکار میں ہم لوگ بنے تھے
ہم یوں ہی کسی بات کو دل پر نہیں لیتے
نقصان زیادہ تھے سو گھبرائے ہوئے تھے
اتنا ہی بتا سکتا ہوں احباب کے بارے
کچھ تیر مری پشت کی جانب سے چلے تھے
میں نے تو کہا تھا کہ نکل جاتے ہیں دونوں
اس وقت کہانی میں سبھی لوگ نئے تھے
دانش نقوی