دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

سنی ہے میں نے کسی کی لگی ہوئی آواز

سنی ہے میں نے کسی کی لگی ہوئی آواز
ہوا کے ساتھ فضا میں چلی ہوئی آواز
میں اس کو دیکھتا رہتا تھا خالی آنکھوں سے
پھر ایک روز نکالی بھری ہوئی آواز
سکوت کیا ہے تجھے چیخ کر بتاوں گا
بحال ہوگی کبھی تو رکی ہوئی آواز
تو بول تاکہ سماعت کو کچھ نیا تو لگے
ہمیشہ میں نے سنی ہے سنی ہوئی آواز
سبب بتاوں کہ ہونٹوں پہ نیل کیسے پڑے؟
میں روک لیتا تھا اکثر لگی ہوئی آواز
تمہارا نام پکارا تو سر میں نکلی ہے
گزشتہ کتنے دنوں کی پھٹی ہوئی آواز

دانش نقوی