دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا

یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا
نہیں ہو رہا تو بوجہ دل نہیں ہو رہا
میری توڑ پھوڑ سے لگ رہا ہے مجھے بھی اب
کہ میں احتیاط سے منتقل نہیں ہو رہا
تیرے سخت لہجوں کی زد میں آکے بگڑ گیا
میرا اب مزاج ہی معتدل نہیں ہو رہا
میری چپ سے میرے مخالفین بھی تنگ ہیں
میں کسی بھی بات پہ مشتعل نہیں ہو رہا
نظر آ رہا ہے کہ دشمنوں کا دیا نہیں
تیرا زخم زخموں سے متصل نہیں ہو رہا

دانش نقوی