دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں

یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں
سوار ساتھ ہوئے تھے اکیلے اترے ہیں
میں اس بلندی سے گرنا ہی سوچ سکتا ہوں
اترنے والے بتائیں کہ کیسے اترے ہیں
لگا یہی تھا کہ اب حبس میں ہی گزرے گی
تمہارے بعد بھی موسم تو اچھے اترے ہیں
وہ میرے سامنے آ بیٹھا سیڑھیاں چڑھ کر
پھر اس کے بعد جو لوگوں کے چہرے اترے ہیں
کوئی گلہ نہیں امید بھی یہی تھی مجھے
یہ لوگ میری توقع پہ پورے اترے ہیں
ہوا کے زور سے گرتے درخت اپنی جگہ
مگر وہ پھل جو درختوں سے کچے اترے ہیں

دانش نقوی