دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

یہ تو جو آ کے بڑا غمگسار بنتا ہے

یہ تو جو آ کے بڑا غمگسار بنتا ہے
ترا دلاسہ طبیعت پہ بار بنتا ہے
ہم ایسی راہ کے پتھر بنے غنیمت ہے
بڑے بڑوں کا جہاں پر غبار بنتا ہے
دیار عشق میں روزی نہیں لکھی سب کی
کسی کسی کا یہاں کاروبار بنتا ہے
یہ ہم جو آتے نہیں ہیں کسی بھی گنتی میں
ہمارا بھی تو کہیں پر شمار بنتا ہے
گئے دنوں کے خسارے گنے تو یاد آیا
تیری طرف میرا کافی ادھار بنتا ہے

دانش نقوی