یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
کوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنے
ایسی تصویر بنا روتے ہوئے خوش بھی لگوں
غم کی ترسیل تو ہو غم کا تماشہ نہ بنے
مستحق ہوں تو کسی اور سے تصدیق بھی کر
مجھ کو مت دینا اگر میرا دلاسہ نہ بنے
جتنا پختہ بھی ہو دل جسم سے باہر رکھنا
تاکہ ٹوٹے بھی تو پھر سینے میں ملبہ نہ بنے
بس اسی شرط پہ کوئی بھی رہے آنکھوں میں
نیند کی سمت کسی خواب کا رستہ نہ بنے
جو بھی رشتہ ہو فقط میرا ہو تجھ سے دانشؔ
اور تو اور ترا مجھ سے بھی رشتہ نہ بنے
دانش نقوی