احسان دانش

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

احسانؔ دانش اردو کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی خود جدوجہد، محنت اور خودداری کی عملی تصویر تھی۔ ان کا اصل نام احسان الحق تھا اور وہ 4 جون 1914ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد کے انتقال اور گھریلو غربت کے باعث انہیں باقاعدہ تعلیم سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا، مگر علم سے محبت نے انہیں خود مطالعہ اور ذاتی کاوش کے ذریعے علمی پختگی عطا کی۔ کم عمری میں مزدوری اختیار کرنا ان کی مجبوری تھی، مگر یہی تجربات بعد میں ان کی شاعری کا بنیادی حوالہ بنے۔

ادبی اعتبار سے احسانؔ دانش کو “شاعرِ مزدور” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے محنت کش طبقے کے دکھ درد، سماجی ناانصافی اور انسانی وقار کو اپنی شاعری کا مرکزی موضوع بنایا۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں اور خلوص سے بھرپور ہے جو براہِ راست قاری کے دل پر اثر کرتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم نظم، قطعات اور اخلاقی شاعری میں بھی ان کی آواز واضح اور مؤثر رہی۔ ان کے نمایاں شعری مجموعوں میں شعلۂ احساس، جہانِ دانش، حرف و حکایت اور کلیاتِ احسانؔ دانش شامل ہیں جو ان کے فکری شعور اور سماجی وابستگی کا بھرپور اظہار ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد احسانؔ دانش 1957ء میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے، جہاں وہ تادمِ حیات ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے درباری یا خوشامدی شاعری سے گریز کیا اور اصول پسندی، سادگی اور محنت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ 22 مارچ 1982ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی محنت کش انسان کی آواز، انسانی خودداری اور اخلاقی قدروں کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے، اور اردو ادب میں احسانؔ دانش کا مقام ہمیشہ زندہ اور معتبر رہے گا۔