فرحت عباس شاہ

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

فرحت عباس شاہ پاکستان کے ممتاز، ہم عصر اور ہمہ جہت شاعر، ادیب، فلسفی اور سماجی دانش ور ہیں جنہیں 23 مارچ 2023 کو حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی و فکری خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا۔ وہ 15 نومبر 1964 کو جھنگ میں پیدا ہوئے اور نوجوانی ہی سے شاعری کا آغاز کیا، جو بعد ازاں ایک بھرپور اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ادبی سفر میں تبدیل ہوا۔ آپ اردو اور پنجابی میں شاعری کے بیش قیمت ذخیرے کے مالک ہیں ان کی پہلی کتاب شام کے بعد جون 1989 مین شائع ہوئی جس کے بعد ازاں بہت سے ایڈیشن شائع ہوئے جو اس کتاب کی پزیرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور اب تک 79 سے زائد کتابیں تحریر کر چکے ہیں جن میں غزل، نظم، فکری نثر، تحقیقی کام اور تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ اُن کی شاعری میں محبت، انسان دوستی، اجتماعی شعور، ملکی خدمت اور سماجی بصیرت ایک ساتھ جھلکتی ہے، جس نے انہیں لاکھوں قارئین میں غیر معمولی مقبولیت عطا کی۔

ڈاکٹر فرحت عباس شاہ کی تعلیمی زندگی بھی اتنی ہی مضبوط اور ہمہ گیر ہے جتنی ان کی ادبی شناخت۔ وہ ایم ایس سی (Psychology)، ایم اے (Philosophy)، ایم اے (English) کے حامل ہیں اور بعد ازاں انہوں نے پی ایچ ڈی (Philosophy) مکمل کی، جس نے انہیں ایک معیاری فکری رہنما، محقق اور فلسفی کے طور پر بھی نمایاں مقام عطا کیا۔ اسی علمی بنیاد پر وہ معاشرت، انسان، ریاست اور عالمی بحرانوں پر گہری تحقیق اور تجزیے پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحقیق ’’World Economic Crises, Analysis and Resolve‘‘ جیسے عالمی موضوعات تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ ایک معروف صحافی بھی رہے ہیں اور ان کے تجزیے ملکی سطح پر پالیسی مباحث میں حوالہ بنتے رہے ہیں۔ سرکاری دستاویز میں یہ اعتراف موجود ہے کہ اُن کی شاعری اور فکر نے نوجوان نسل اور ادبی اداروں کو مثبت سمت عطا کی۔

فرحت عباس شاہ کی شخصیت کا نمایاں ترین پہلو اُن کی سماجی اور جسمانی نظم و ضبط ہے، جس کا اظہار اُن کی سماجی خدمات اور مارشل آرٹس دونوں میں ہوتا ہے۔ وہ مارشل آرٹس میں بلیک بیلٹ سیون ڈان (7th Dan) کے حامل ہیں — جو انتہائی اعلیٰ سطح کی مہارت ہے اور ان کے ضبط، استقامت اور روحانی طاقت کی علامت بھی۔ اسی ذاتی نظم کو عملی میدان میں منتقل کرتے ہوئے انہوں نے FARZ Foundation Microfinance کی بنیاد رکھی، جو پاکستان میں غربت کے خاتمے، مالی خود کفالت اور سماجی بحالی کے لیے ایک فعال اور منفرد ادارہ اور انکا یہ اکنامک ماڈل آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی مستند مانا گیا ہے۔ وسیع تجربے، علمی گہرائی اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث کہا جاتا ہے کہ اگر انہیں ہم خیال فکری لوگوں کے ساتھ کسی بڑے ادبی یا فکری ادارے کی سربراہی مل جائے تو وہ ملک کے ادب، فن اور دانش ورانہ سرمایے کو قومی مفاد کے لیے نئی سمت دے سکتے ہیں۔