search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
فرحت عباس شاہ
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
اسیں لکھ نمازاں نیتیاں
سائیاں
پیش از دن بھی پس شب بھی نظر آتا ہے
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
موت کا وقت گزر جائے گا
وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟
دلِ سوختہ
رابعہ
صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار
وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے
وہ چاروں سمت سے تنظیم کر کے مارتے ہیں
پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا
ہنسیں اور ایک بار پھر خود کو دھوکہ دیں
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
راستے راستے ہوا اداس اداس
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی
کہاں میں کہاں ہو تم
تمہارے خواب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
بھول کر ذات تم کو یاد کیا
تمہارا پیار مرے چارسو ابھی تک ہے
ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ
کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
رات کی مہربان فضا کی طرح
محبت ذات ہوتی ہے۔۔
اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد