کلامِ شاعر
- 01 اسیں لکھ نمازاں نیتیاں
- 02 سائیاں
- 03 پیش از دن بھی پس شب بھی نظر آتا ہے
- 04 آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
- 05 موت کا وقت گزر جائے گا
- 06 وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟
- 07 دلِ سوختہ
- 08 رابعہ
- 09 صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار
- 10 وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے
- 11 وہ چاروں سمت سے تنظیم کر کے مارتے ہیں
- 12 پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں
- 13 اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
- 14 گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا
- 15 ہنسیں اور ایک بار پھر خود کو دھوکہ دیں
- 16 دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
- 17 راستے راستے ہوا اداس اداس
- 18 جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
- 19 آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
- 20 پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی
- 21 کہاں میں کہاں ہو تم
- 22 تمہارے خواب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
- 23 بھول کر ذات تم کو یاد کیا
- 24 تمہارا پیار مرے چارسو ابھی تک ہے
- 25 ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے
- 26 گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
- 27 اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
- 28 آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ
- 29 کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
- 30 بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
- 31 رات کی مہربان فضا کی طرح
- 32 محبت ذات ہوتی ہے۔۔
- 33 اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
- 34 ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
- 35 تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد