پیش از دن بھی ، پس شب بھی نظر آتا ہے
تجھ کو جب دیکھتا ہوں رب بھی نظر آتا ھے
بعد آنکھوں کے مرا دل بھی نکالا اس نے
اس کو شک تھا کہ مجھے اب بھی نظر آتا ھے
اتنے معمول سے اس شہر میں ڈر آتا ھے
جسطرح صبح کا بھولا ھوا گھر آتا ھے
جب تری یاد مری ذات کا در کھولتی ھے
چاند مرجھا کے خیالوں میں اتر آتا ھے
وہ سمجھتا تھا، وہ سچ مچ میں سمجھتاتھا یہی
مجھ کو تنہائی سے لڑنے کا ہنر آتا ھے
یہ جو آتا ھے پسینہ مری پیشانی پر
میرے دل تک تری آہوں کا اثر آتا ھے
ایسے آتی ہے مری سمت محبت تیری
جس طرح سایہ کوئی خاک بہ سر آتا ہے
واے بربادی مقدر ہوا ماتم میرا
وہ کہیں بھی نہیں اور رخت سفر آتا ہے
اس لیے ہی تو تجھے ساتھ نہیں لایا میں
ہر قدم پر میرے رستے میں بھنور آتا
جب سےنکلاھےمرےدل سےتری دھوپ کا خوف
میری ہر راہ میں خود چل کے شجر آتا ھے
کاش اس کیف کی تعبیر کبھی ممکن ہو
لوریاں دینے مجھے موت کا ڈر آتا ھے
آنکھ بھیگی ہو ذرا سی کبھی میری تو کہو
دل کی چھوڑو یہ تو بس ایسے ہی بھر آتا ھے
فرحت عباس شاہ