رابعہ!
او میری اجنبی رابعہ
مجھ کو کب علم تھا
اتنی صدیوں پرانی شناسائی یوں پل بھر میں نکل آۓ گی
اجنبیت کی دہلیز سے
اور پھر اپنی معصوم دلدار آنکھوں سے جھانکے گی
عمروں کے ویران دل میں
زمانوں کے زندان میں
رابعہ!
رات میلے کے شوروشغب میں تیرے حسن کی خامشی
یوں اچانک میرے دل کے مندر کے محراب میں گنگنائی
کہ جیسے عبادت کے لمحوں میں روٹھی ہوئی کوئی دیرینہ خواہش
دعاؤں کے گیتوں بھرے تار چھوتی ہوئی جل اٹھے
رابعہ!
میں تو مبہوت تھا
اور گھبرا کے میں نے کوئی بے تکی بات کرنے کی کوشش بھی کی تھی
مگر
میری اپنی اداسی نے مجھ کو سہارا دیا
رابعہ!
میرے ساتھی میری بے قراری پہ حیران تھے
اور منصور تو مستقل ہی بضد تھا
کہ فرحت چلو اس سے ملتے ہیں
اور پو چھتے ہیں کہ کس آسماں سے زمیں پہ اتاری گئی ہو
تمہیں علم ہے؟
کہ یہ لڑکا تجھے دیکھتے ہی جو ٹھٹھکا ہے ٹھنڈی ہوا کی طرح
کون ہے؟ یہ کوئی عام لڑکا نہیں ہے
محبت کا بھگوان ہے
اور اداسی کا سلطان ہے
اور غموں کے جہانوں کا ایمان ہے
رابعہ!
واقعہ چند گھڑیوں کا ہو گا مگر
آنسوؤں کے مہ و سال ایسی ہی گھڑیوں سے
ایسے ہی لمحوں سے پیدا ہوئے ہیں محبت کی تاریخ
آج کی رات
میلے کے شوروشغب سے نکل کر محبت کی تاریخ پر پھیلتی جا رہی ہے
یہ بے کار محدود صدیاں مجھے یوں تکے جارہی ہیں
کہ جیسے مرے آنسوؤں کے ازل اور ابدسے پریشان ہوں
میری افسردگی اور جدائی کے پھیلاؤ میں
چند لمحوں کی مہمان ہوں
رابعہ!
او میری اجنبی رابعہ
کیا تمہیں رات میلے میں اترا ہوا ایک گم سم ستارہ
کبھی یاد آئے گا دل کے کسی موڑ پر
یا سمندر کے سینے پہ برسی ہوئی بارشوں کی طرح
کوئی نام ونشاں ہی نہ باقی رہے گا
فرحت عباس شاہ