رات کی مہربان فضا کی طرح
کوئی تو ڈھونڈتا ہوا کی طرح
اب تری یاد، یاد آتی ہے
مجھ کو بھولی ہوئی قضا کی طرح
کیا کوئی اتنا پیار کرتا ہے
کوئی ہوتا ہے کیا خدا کی طرح
شہر میں آپ کی ضرورت تھی
گم ہوئے آپ بھی وفا کی طرح
گونجتا ہے کبھی کبھی فرحت
میرے اندر کوئی خلا کی طرح
فرحت عباس شاہ