وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے
وہی خدا ہیں ، وہی بندگی ہماری ہے
نہ دکھ ہی بدلے ، نہ دکھ دینے والے بدلے ہیں
وہی نصیب ، وہی زندگی ہماری ہے
ہے کب کسی کے کہیں آنے جانے سے بدلی
یہ مستقل ہے ، یہ لاچارگی ہماری ہے
ہمیں پتہ ہے ، نہیں ہے بہادری اسکی
ہمیں پتہ ہے کہ یہ بزدلی ہماری ہے
عدالتیں ہوں یا سرکار ہو یا کتے ہوں
سبھی ہے انکا ، فقط شاعری ہماری ہے
فرحت عباس شاہ