کلامِ شاعر
- 01 گھر کے قصے بیان ہوتے رہے
- 02 قطرہ قطرہ
- 03 ایک لڑکی سی
- 04 مہمان
- 05 جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
- 06 آنکھیں
- 07 پتھر سے وصال مانگتی ہوں
- 08 یہ زرد موسم کے خشک پتے
- 09 اس گلی کے موڑ پر
- 10 کچھ لوگ
- 11 لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا
- 12 انقلابی عورت
- 13 بیٹھا ہے میرے سامنے وہ
- 14 کب تک
- 15 چادر اور چار دیواری
- 16 یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
- 17 پتھر کی زبان
- 18 چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
- 19 کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
- 20 مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں
- 21 اب سو جاؤ
- 22 پچھتاوا
- 23 کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
- 24 یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا
- 25 یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
- 26 پتھر سے وصال مانگتی ہوں
- 27 کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
- 28 جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
- 29 چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں