search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
فہمیدہ ریاض
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
گھر کے قصے بیان ہوتے رہے
قطرہ قطرہ
ایک لڑکی سی
مہمان
جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
آنکھیں
پتھر سے وصال مانگتی ہوں
یہ زرد موسم کے خشک پتے
اس گلی کے موڑ پر
کچھ لوگ
لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا
انقلابی عورت
بیٹھا ہے میرے سامنے وہ
کب تک
چادر اور چار دیواری
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
پتھر کی زبان
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں
اب سو جاؤ
پچھتاوا
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
پتھر سے وصال مانگتی ہوں
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں