search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
حفیظ جالندھری
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے
مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا
عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا
کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا
دور رفتہ دیکھ لیتا ہوں گلستاں دیکھ کر
ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے
دل بے مدعا ہے اور میں ہوں
آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
دوستی کا چلن رہا ہی نہیں
مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے
اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا
دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا
اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں
مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے
سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے
وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی
یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
زندگی سے نباہ مشکل ہے