کلامِ شاعر
- 01 دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے
- 02 مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا
- 03 عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا
- 04 کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
- 05 رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
- 06 مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا
- 07 دور رفتہ دیکھ لیتا ہوں گلستاں دیکھ کر
- 08 ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے
- 09 دل بے مدعا ہے اور میں ہوں
- 10 آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
- 11 دوستی کا چلن رہا ہی نہیں
- 12 مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے
- 13 اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا
- 14 دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا
- 15 اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں
- 16 مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے
- 17 سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے
- 18 وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
- 19 ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
- 20 آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی
- 21 یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
- 22 زندگی سے نباہ مشکل ہے