حمیدہ شاہین

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

حمیدہ شاہین اردو ادب کی اُن معتبر اور توانا آوازوں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے شاعری کو محض جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکری، سماجی اور تعلیمی شعور کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ 26 جنوری 1963ء کو سرگودھا میں پیدا ہونے والی حمیدہ شاہین نے ایک علمی اور تہذیبی ماحول میں آنکھ کھولی۔ انہوں نے جامعہ پنجاب، لاہور سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی میں محکمۂ تعلیم پنجاب سے وابستہ ہو کر طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ بطور استاد انہوں نے نہ صرف نصابی ذمہ داریاں ادا کیں بلکہ طلبہ و طالبات میں ادب، زبان اور اظہار کی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا، جس نے ان کی فکری تشکیل میں گہرا کردار ادا کیا۔

ادبی میدان میں حمیدہ شاہین نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی شاعری عورت کے داخلی احساسات، گھریلو اور سماجی تجربات، خود آگاہی، انسانی رشتوں کی پیچیدگی اور سماجی ناانصافی کے خلاف شعوری ردِعمل کی آئینہ دار ہے۔ ان کے شعری مجموعے دستک، دشتِ وجود اور زندہ ہوں اردو شاعری میں نسائی اظہار کی مضبوط مثالیں سمجھے جاتے ہیں۔ تدریس سے وابستگی کے باعث ان کے کلام میں فکری توازن، معنوی وضاحت اور اسلوبی شفافیت نمایاں نظر آتی ہے، جو قاری کو فکری سطح پر متحرک کرتی ہے۔

حمیدہ شاہین کی ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد معتبر اعزازات سے نوازا گیا، جن میں حکیم محمد سعید ادبی ایوارڈ اور اعتبارِ فن ایوارڈ شامل ہیں۔ وہ ایک شاعرہ، معلمہ اور فکری رہنما کی حیثیت سے اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کا کلام محض نسائی تجربے تک محدود نہیں بلکہ مجموعی انسانی شعور، اخلاقی قدروں اور سماجی ذمہ داری کا مظہر ہے، اور یہی پہلو انہیں معاصر اردو ادب کی معتبر شخصیات میں شامل کرتا ہے۔