انعام اللہ خاں یقینؔ اٹھارہویں صدی کے اردو کے ممتاز اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1727ء میں ہوئی اور وہ کم عمری میں ہی اردو غزل کے اہم ناموں میں شامل ہو گئے۔ یقینؔ کا تعلق دبستانِ دہلی سے تھا، جو اردو شاعری کا کلاسیکی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسے دور میں آنکھ کھولی جب میر تقی میرؔ، سوداؔ، دردؔ اور مظہر جانِ جاناں جیسے بڑے شعرا موجود تھے۔ یقینؔ نے کم عمری کے باوجود اپنی جداگانہ شناخت قائم کی اور اردو غزل میں سادگی، شستگی اور فکری گہرائی کو فروغ دیا، جس کی بدولت ان کا شمار اردو غزل کے ابتدائی معماروں میں کیا جاتا ہے۔
یقینؔ، بزرگ صوفی شاعر مظہر جانِ جاناں کے شاگرد تھے اور ان کے فکری و روحانی اثرات یقینؔ کی شاعری میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اس دور میں ایہام گوئی کا رواج عام تھا، مگر یقینؔ نے اس کے برعکس سادہ، رواں اور خلوص پر مبنی طرزِ بیان اختیار کیا۔ ان کی شاعری اس قدر اثر انگیز اور منفرد تھی کہ ہم عصر شعرا حتیٰ کہ شاہ حاتمؔ جیسے استاد شاعر بھی ان کے اسلوب سے متاثر ہوئے۔ یقینؔ کا دیوان 170 غزلوں پر مشتمل ہے اور ایک اہم فنی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی ہر غزل پانچ اشعار پر مشتمل ہے، جو ان کے شعری نظم و ضبط اور ایجاز پسندی کی واضح مثال ہے۔
انعام اللہ خاں یقینؔ کی وفات 1755ء میں ہوئی اور ان کی عمر محض 28 برس تھی۔ ان کی پر اسرار موت بارے کچھ مبہم روایات پائی جاتی ہیں۔ تاہم جدید تحقیق کے مطابق یہ روایات مکمل طور پر مصدقہ تاریخی ثبوت پر مبنی نہیں بلکہ روایت کی حد تک محدود ہے، اس لیے محققین اس بیان کو احتیاط کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ اگرچہ یقینؔ کی زندگی نہایت مختصر رہی، مگر ان کی شاعری نے اردو غزل پر دیرپا اثر چھوڑا اور ناقدین کے نزدیک اگر وہ طویل عمر پاتے تو اردو شاعری کا ارتقائی سفر ممکنہ طور پر ایک مختلف اور زیادہ پختہ رخ اختیار کر لیتا۔