اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا
ملتے ہی میرے مجھ سے یہ دل آشنا نہ تھا
اب جوں سرشک خاک سے سکتا نہیں ہوں اٹھ
آگے میں دل کی آنکھ سے اتنا گرا نہ تھا
ناصح جو یہ نصیحت بے جا نہ میں سنی
معذور رکھ تو مجھ کو مرا دل بجا نہ تھا
مرنے کی طرح میں نے جو یہ اختیار کی
دیکھا تو زندگی میں مزا کچھ رہا نہ تھا
جو کچھ کہیں یہ تجھ کو یقیںؔ ہے سزا تری
بندہ جو تو بتوں کا ہوا کیا خدا نہ تھا
انعام اللہ خاں یقین