انعام اللہ خاں یقین

شاعر

تعارف شاعری

بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھ

بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھ
سرو بندہ ہو، ترے قامتِ آزادکو دیکھ
ان گنہگاروں میں ، ہوں میں کہ مزے کے مارے
جی نکلتا ہے مرا دُور سے جلاد کو دیکھ
عمر میں تو نے تو دیکھے ہیں بہت بت خانے
آتو، اے چرخ ٹک اک اس دلِ ناشاد کو دیکھ
حسن گل کا تو مسلَم ہے ، و لیکن بلبل
عشق گر تجھ کو ہے منظور تو صیاد کو دیکھ
عشق کے جور و ستم میں گر شک ہے یقیں
عیش پرویز کو اور محنتِ فرہاد کو دیکھ

انعام اللہ خاں یقین