انعام اللہ خاں یقین — شاعر کی تصویر

کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے — انعام اللہ خاں یقین

شاعر

تعارف شاعری

کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے

کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے
اس پینچ سے بتاں کے نکالے خدا مجھے
دل نے مرے جو دی ہے بڑھا ٹوٹنے کی قدر
کرتی ہے بال بال سے چینی دعا مجھے
جور و جفا میں یار بہت ہو گیا دلیر
کرتے تو کی پہ راس نہ آئی وفا مجھے
میں خاک تو ہوا پہ میری آبرو رہی
کرتے تھے دیدہ خوار جدا دل جدا مجھے
میں گر رہا ہوں یار کے قدموں اوپر یقیںؔ
آئی ہے راس سایۂ گل کی ہوا مجھے

Karte hain apne baal dikha mubtala mujhe

Karte hain apne baal dikha mubtala mujhe
Is pech se buton ke nikaale Khuda mujhe
Dil ne mere jo di hai badha tootne ki qadr
Karti hai baal baal se cheeni dua mujhe
Jaur-o-jafa mein yaar bahut ho gaya dileer
Karte to ki pe raas na aayi wafa mujhe
Main khaak to hua pe meri aabroo rahi
Karte the deedah khwaar juda dil juda mujhe
Main gir raha hoon yaar ke qadmoon upar Yaqeen'
Aayi hai raas saaya-e-gul ki hawa mujhe

شاعر کے بارے میں

انعام اللہ خاں یقین

انعام اللہ خاں یقینؔ اٹھارہویں صدی کے اردو کے ممتاز اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1727ء میں ہوئی اور وہ کم عمری میں ہی اردو غزل کے اہم نام...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام