انعام اللہ خاں یقین

شاعر

تعارف شاعری

کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے

کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے
اس پینچ سے بتاں کے نکالے خدا مجھے
دل نے مرے جو دی ہے بڑھا ٹوٹنے کی قدر
کرتی ہے بال بال سے چینی دعا مجھے
جور و جفا میں یار بہت ہو گیا دلیر
کرتے تو کی پہ راس نہ آئی وفا مجھے
میں خاک تو ہوا پہ میری آبرو رہی
کرتے تھے دیدہ خوار جدا دل جدا مجھے
میں گر رہا ہوں یار کے قدموں اوپر یقیںؔ
آئی ہے راس سایۂ گل کی ہوا مجھے

انعام اللہ خاں یقین