میں سنتا رہتا ہوں نغمے کمال کے اندر
کئی صدائیں پرندوں میں ڈال کے اندر
جو واہمے مرا اندر اجاڑ سکتے ہیں
میں رکھ رہا ہوں انہیں بھی سنبھال کے اندر
تمام مسئلے نوعیت سوال کے ہیں
جواب ہوتے ہیں سارے سوال کے اندر
جگہ جگہ پہ کوئی تو ہزارہا نشتر
اتارتا ہے رگ احتمال کے اندر
طرح طرح کے گلاب آتشیں سلاخ کے ساتھ
نکال لاتا ہوں سوراخ ڈال کے اندر
یہ سلسلہ ذرا موقوف ہو تو دیکھوں گا
خیال اور ہیں کتنے خیال کے اندر
تڑپتے رہتے ہیں دل کے نواح میں جاویدؔ
بہت سے اژدہے جیبھیں نکال کے اندر
اقتدار جاوید
Main sunta rehta hoon naghme kamaal ke andar
Kayi sadaayein parindon mein daal ke andar
Jo wahme mera andar ujaad sakte hain
Main rakh raha hoon unhein bhi sambhaal ke andar
Tamaam masle nauiyat sawal ke hain
Jawab hote hain saare sawal ke andar
Jagah jagah pe koi to hazaarha nishtar
Utaarta hai rag-e-ehtemal ke andar
Tarah tarah ke gulaab aatishin salaakh ke saath
Nikaal lata hoon suraakh daal ke andar
Yeh silsila zara mauqoof ho to dekhunga
Khayaal aur hain kitne khayaal ke andar
Tarapte rehte hain dil ke nawah mein Javed
Bahut se azdahe jeebhein nikaal ke andar
اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معرو...
مکمل تعارف پڑھیں