عرفان صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

عرفان صدیقی اردو ادب کے اُن معتبر اور باوقار شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت اور جدید حسیت کے درمیان ایک پُراثر اور متوازن رشتہ قائم کیا۔ 8 جنوری 1939ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے عرفان احمد صدیقی نے علمی و ادبی فضا میں آنکھ کھولی اور ابتدائی ہی عمر سے زبان، لفظ اور معنی سے گہرا شغف پیدا کر لیا۔ اعلیٰ تعلیم بریلی کالج سے حاصل کی اور بعدازاں عملی زندگی میں انڈین انفارمیشن سروس سے وابستہ ہو کر وزارتِ اطلاعات و نشریات میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں، مگر سرکاری ذمہ داریوں کے باوجود ادب ان کی زندگی کا مرکزی حوالہ بنا رہا۔

عرفان صدیقی کی شاعری فکری گہرائی، جمالیاتی لطافت اور رومانوی احساس کی حسین آمیزش ہے۔ ان کے یہاں غزل محض جذبے کا اظہار نہیں بلکہ شعور اور تجربے کی تہہ دار صورت بن کر سامنے آتی ہے۔ کینوس، شبِ درمیاں، سات سماوات، عشق نامہ جیسے مجموعے ان کے تخلیقی سفر کے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان کا اسلوب نرم، شفاف اور فکری اعتبار سے بالغ ہے، جس میں محبت، وجود، انسان اور کائنات سے متعلق سوالات نہایت سلیقے اور تہذیب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری قاری کو محض متاثر نہیں کرتی بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔

شاعری کے ساتھ ساتھ عرفان صدیقی ایک اہم مترجم اور ادبی مرتب بھی تھے۔ سنسکرت کے کلاسیکی ادب، خصوصاً کالی داس کی تخلیقات کے اردو تراجم ہوں یا عالمی ادب سے منتخب کام، ان کی علمی وسعت اور زبان پر گرفت کا واضح ثبوت ہیں۔ 15 اپریل 2004ء کو لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا تخلیقی ورثہ آج بھی اردو ادب میں زندہ اور متحرک ہے۔ عرفان صدیقی کا نام ان شعرا میں محفوظ ہے جنہوں نے لفظ کو محض حسن نہیں بلکہ معنی، وقار اور فکری ذمہ داری بھی عطا کی۔