search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
عشرت آفریں
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
آگ پانی میں فروزاں دیکھو
مدفن
وہ جو یادوں کی روشنی سی تھی
رہائی
رتجگا
اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہے
خون ناحق کی طرح گلیوں میں جب بہتی ہے رات
میٹھی نرم سجیلی دھوپ
شہر پر رات کا شباب اترے
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ
لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
تمہیں لکھنا نہ آتا تھا
کھیلنے کودنے کی عمروں میں
میرے پرکھوں کی پہلی دعا
دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھی
نمو کے عرفاں سے بے خبر ہوں
آنر کلنگ
سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں
میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی
تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے
دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے
پرانے محلے کا سنسان آنگن
وحشت سی وحشت ہوتی ہے
دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی
اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو