عالم ہجر میں جینا نہیں اچھا لگتا
اس سمندر میں سفینہ نہیں اچھا لگتا
کل شجاعت کی ترے منہ سے سنی تھی باتیں
تیرے ماتھے پہ پسینہ نہیں اچھا لگتا
کل انہیں ہاتھوں نے چھینے تھے کسی منہ سے گلاس
اب انہیں ہاتھوں سے پینا نہیں اچھا لگتا
اسماعیل راز
Aalam-e-hijr mein jeena nahin achha lagta
Is samandar mein safeena nahin achha lagta
Kal shujaat ki tere munh se suni thin baatein
Tere maathe pe paseena nahin achha lagta
Kal unhein haathon ne cheene the kisi munh se gilas
Ab unhein haathon se peena nahin achha lagta
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جو غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور اپنے منفرد اسلوب کے باعث ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کر چکے ہیں۔اسماعیل راز کی شاعری میں محبت، تنہائی...
مکمل تعارف پڑھیں