اب اس بھرم میں ہر اک رات کاٹنی ہے مجھے
کہ آنے والی ترے ساتھ کاٹنی ہے مجھے
تجھے دلانا ہے احساس اپنے اس دکھ کا
تو کچھ تو بول تری بات کاٹنی ہے مجھے
مجھے طلوع سحر کی تسلیاں مت دے
ابھی تو یہ شب ظلمات کاٹنی ہے مجھے
اسماعیل راز
Ab is bharam mein har ik raat kaaTni hai mujhe
Ke aane wali tere saath kaaTni hai mujhe
Tujhe dilaana hai ehsaas apne is dukh ka
Tu kuch to bol teri baat kaaTni hai mujhe
Mujhe taloo-e-sahar ki tasalliyaN mat de
Abhi to yeh shab-e-zulmat kaaTni hai mujhe
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جو غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور اپنے منفرد اسلوب کے باعث ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کر چکے ہیں۔اسماعیل راز کی شاعری میں محبت، تنہائی...
مکمل تعارف پڑھیں