گرا پڑا کے نہ یوں تار تار کر مجھ کو
مرے حوالے ہی کر دے پکار کر مجھ کو
مری تلاش میں کون آئے گا مرے اندر
یہیں پہ پھینک دیا جائے مار کر مجھ کو
میں جتنا قیمتی ہوں اتنا بد نصیب بھی ہوں
وہ سو رہا ہے گلے سے اتار کر مجھ کو
اسماعیل راز
Gira paRa ke na yoon taar taar kar mujh ko
Mere hawale hi kar de pukaar kar mujh ko
Meri talaash mein kaun aayega mere andar
YahīN pe phenk diya jaaye maar kar mujh ko
Main jitna qeemati hoon utna bad-naseeb bhi hoon
Woh so raha hai gale se utaar kar mujh ko
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جو غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور اپنے منفرد اسلوب کے باعث ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کر چکے ہیں۔اسماعیل راز کی شاعری میں محبت، تنہائی...
مکمل تعارف پڑھیں