نکل ہی آتی تھی صورت کبھی پلٹنے کی
پر اس نے کی نہیں نیت کبھی پلٹنے کی
تمام عمر اسی کا انتظار کرتے رہے
کہ جس میں تھی نہیں عادت کبھی پلٹنے کی
اب ایک سنگ کی صورت پڑے ہیں در پہ ترے
چکا رہے ہیں یوں قیمت کبھی پلٹنے کی
وگرنہ وہ تو نہ تھا اس قدر بھی سخت مزاج
ہمیں نے کی نہیں ہمت کبھی پلٹنے کی
اسماعیل راز
Nikal hi aati thi soorat kabhi palatne ki
Par us ne ki nahin niyat kabhi palatne ki
Tamam umr usi ka intezar karte rahe
Ke jis mein thi nahin aadat kabhi palatne ki
Ab ek sang ki soorat pade hain dar pe tere
Chuka rahe hain yun qeemat kabhi palatne ki
Wagarna woh to na tha is qadar bhi sakht mizaj
Hamein ne ki nahin himmat kabhi palatne ki
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جو غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور اپنے منفرد اسلوب کے باعث ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کر چکے ہیں۔اسماعیل راز کی شاعری میں محبت، تنہائی...
مکمل تعارف پڑھیں