کلامِ شاعر
- 01 بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے
- 02 تا ابد ایک ہی چرچا ہوگا
- 03 یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے
- 04 جیوے جیوے پاکستان
- 05 عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے
- 06 ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی
- 07 کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے
- 08 ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ
- 09 کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوں
- 10 کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے
- 11 حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
- 12 کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
- 13 یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں
- 14 تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے
- 15 خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں
- 16 اے وطن کے سجیلے جوانو
- 17 عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھے
- 18 عاشق ہیں جو وطن کے
- 19 اب یہ انداز انجمن ہوگا
- 20 مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلوم
- 21 یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
- 22 جو بولے مارا جائے
- 23 آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
- 24 بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
- 25 دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
- 26 اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
- 27 اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے
- 28 تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
- 29 بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا
- 30 کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے