search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
جمیل الدین عالی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے
تا ابد ایک ہی چرچا ہوگا
یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے
جیوے جیوے پاکستان
عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے
ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی
کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے
ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ
کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوں
کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے
حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں
تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے
خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں
اے وطن کے سجیلے جوانو
عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھے
عاشق ہیں جو وطن کے
اب یہ انداز انجمن ہوگا
مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلوم
یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
جو بولے مارا جائے
آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا
کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے