جاوید اختر

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 17 جنوری 1945ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان نثار اختر نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار تھے جبکہ والدہ صفیہ اختر ادبی ذوق رکھنے والی مصنفہ تھیں۔ ان کے دادا مضطر خیرآبادی بھی اپنے عہد کے معروف شاعر تھے، اس طرح ادب ان کے خاندانی مزاج میں شامل تھا۔ بچپن میں ان کا نام ’’جادو‘‘ رکھا گیا، جو بعد میں بدل کر جاوید اختر ہوا اور یہی نام آگے چل کر شناخت بن گیا۔ مختلف شہروں میں تعلیم کے دوران ان کے اندر تخلیقی شعور پختہ ہوتا گیا اور انہوں نے کم عمری ہی میں تحریر و ادب کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لیا۔

1964ء میں محض انیس برس کی عمر میں وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں ممبئی پہنچے۔ ابتدائی زمانہ نہایت کٹھن تھا؛ بے روزگاری، فاقہ کشی اور بے گھری تک کے مراحل آئے، مگر مستقل مزاجی نے انہیں فلمی دنیا میں قدم جمانے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے معاون اسکرپٹ رائٹر کے طور پر آغاز کیا اور پھر سلیم خان کے ساتھ مل کر ایک تاریخ ساز تخلیقی اشتراک قائم کیا۔ اس جوڑی نے شعلے اور ڈان جیسی شہرۂ آفاق فلموں کی کہانیاں لکھیں جو آج بھی مقبولیت کی مثال سمجھی جاتی ہیں۔ بعد ازاں بطور نغمہ نگار ان کے لکھے ہوئے گیت مثلاً ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا، سندیسے آتے ہیں اور کل ہو نہ ہو زبان زدِ عام ہوئے اور انہوں نے عوامی دلوں میں گھر کر لیا۔

ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری اور پدم بھوشن جیسے بڑے اعزازات عطا ہوئے، متعدد مرتبہ فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا گیا اور اردو شاعری پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔ ان کی زندگی کے کچھ کم معروف مگر مستند پہلو بھی اہم ہیں: انہوں نے خود اعتراف کیا کہ جدوجہد کے زمانے میں ذاتی کمزوریوں خصوصاً شراب نوشی سے مقابلہ کیا، حتیٰ کہ ایک موقع پر بیئر بہت زیادہ مقدار میں پینے کا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں گہرائی، انسان دوستی اور فکری جرات کا عنصر نمایاں طور پر پایا جاتا ہے، جس کے باعث جاوید اختر عہد حاضر کے نمایاں ترین اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں۔