جاوید اختر — شاعر کی تصویر

بے گھر — جاوید اختر

شاعر

تعارف شاعری

بے گھر

شام ہونے کو ہے
لال سورج سمندر میں کھونے کو ہے
اور اس کے پرے
کچھ پرندے
قطاریں بنائے
انہیں جنگلوں کو چلے
جن کے پیڑوں کی شاخوں پہ ہیں گھونسلے
یہ پرندے
وہیں لوٹ کر جائیں گے
اور سو جائیں گے
ہم ہی حیران ہیں
اس مکانوں کے جنگل میں
اپنا کہیں بھی ٹھکانا نہیں
شام ہونے کو ہے
ہم کہاں جائیں گے

Be-Ghar

Shaam hone ko hai
Laal suraj samundar mein khone ko hai
Aur us ke pare
Kuchh parinde
Qatarein banaye
Unhein jangalon ko chale
Jin ke perhon ki shaakhon pe hain ghonsle
Ye parinde
Wahin laut kar jaayenge
Aur so jaayenge
Hum hi hairan hain
Is makanon ke jangal mein
Apna kahin bhi thikana nahin
Shaam hone ko hai
Hum kahan jaayenge

شاعر کے بارے میں

جاوید اختر

جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 1...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام