دل کا ہر درد کھو گیا جیسے
میں تو پتھر کا ہو گیا جیسے
داغ باقی نہیں کہ نقش کہوں
کوئی دیوار دھو گیا جیسے
جاگتا ذہن غم کی دھوپ میں تھا
چھاؤں پاتے ہی سو گیا جیسے
دیکھنے والا تھا کل اس کا تپاک
پھر سے وہ غیر ہو گیا جیسے
کچھ بچھڑنے کے بھی طریقے ہیں
خیر جانے دو جو گیا جیسے
Dil ka har dard kho gaya jaise
Main to patthar ka ho gaya jaise
Daagh baqi nahin ke naqsh kahun
Koi deewar dho gaya jaise
Jagta zehn gham ki dhoop mein tha
Chhaon paate hi so gaya jaise
Dekhne wala tha kal us ka tapaak
Phir se woh ghair ho gaya jaise
Kuchh bichhadne ke bhi tareeqe hain
Khair jaane do jo gaya jaise
جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 1...
مکمل تعارف پڑھیں