دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے
دور تک نگاہوں میں ہیں گل کھلے ہوئے
یہ گلا ہے آپ کی نگاہوں سے
پھول بھی ہوں درمیاں تو فاصلے ہوئے
دیکھا ایک خواب تو
میری سانسوں میں بسی خوشبو تیری
یہ تیرے پیار کی ہے جادوگری
تیری آواز ہے ہواؤں میں
پیار کا رنگ ہے فضاؤں میں
دھڑکنوں میں تیرے گیت ہیں ملے ہوئے
کیا کہوں کے شرم سے ہیں لب سلے ہوئے
دیکھا ایک خواب تو
میرا دل ہے تیری پناہوں میں
آ چھپا لوں تجھے میں باہوں میں
تیری تصویر ہے نگاہوں میں
دور تک روشنی ہے راہوں میں
کل اگر نہ روشنی کے قافلے ہوئے
پیار کے ہزار دیپ ہیں جلے ہوئے
دیکھا ایک خواب تو
جاوید اختر