جاوید اختر — شاعر کی تصویر

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے — جاوید اختر

شاعر

تعارف شاعری

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے
اک طرف مورچے تھے پلکوں کے
اک طرف آنسوؤں کے ریلے تھے
تھیں سجی حسرتیں دکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے
خود کشی کیا دکھوں کا حل بنتی
موت کے اپنے سو جھمیلے تھے
ذہن و دل آج بھوکے مرتے ہیں
ان دنوں ہم نے فاقے جھیلے تھے

Hum to bachpan mein bhi akele the

Hum to bachpan mein bhi akele the
Sirf dil ki gali mein khele the
Ek taraf morche the palkon ke
Ek taraf aansuon ke rele the
Thin saji hasratein dukaanon par
Zindagi ke ajib mele the
Khudkushi kya dukhon ka hal banti
Maut ke apne sau jhamele the
Zehn-o-dil aaj bhookhe marte hain
Un dino hum ne faqe jhele the

شاعر کے بارے میں

جاوید اختر

جاوید اختر برصغیر کے اُن ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فلمی کہانی نویسی کے میدان میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ وہ 1...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام