کلامِ شاعر
- 01 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے
- 02 آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
- 03 سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
- 04 کبھی یوں بھی تو ہو
- 05 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔
- 06 کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئے
- 07 پرستار
- 08 آثار قدیمہ
- 09 بیمار کی رات
- 10 مری دعا ہے
- 11 ہمسائے کے نام
- 12 کچی بستی
- 13 ''میرا آنگن میرا پیڑ''
- 14 کائنات
- 15 ایک شاعر دوست سے
- 16 معمہ
- 17 دل
- 18 جہنمی
- 19 برگد
- 20 بے گھر
- 21 ایک مہرے کا سفر
- 22 عجیب قصہ ہے
- 23 الجھن
- 24 اعتراف
- 25 آرزو کے مسافر
- 26 میلے
- 27 شبانہ
- 28 بھوک
- 29 پندرہ اگست
- 30 دوراہا
- 31 نیا حکم نامہ
- 32 وہ کمرہ یاد آتا ہے
- 33 عجیب آدمی تھا وہ
- 34 آنسو
- 35 دشواری
- 36 بنجارہ
- 37 یہ کھیل کیا ہے
- 38 وقت
- 39 زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا
- 40 تمنا پھر مچل جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
- 41 تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
- 42 پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی
- 43 ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
- 44 یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب
- 45 یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں
- 46 یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا
- 47 یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہا
- 48 یہی حالات ابتدا سے رہے
- 49 یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا
- 50 وہ زمانہ گزر گیا کب کا
- 51 وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے
- 52 سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاند
- 53 شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب
- 54 شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
- 55 سچ یہ ہے بیکار ہمیں غم ہوتا ہے
- 56 ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے
- 57 پیاس کی کیسے لائے تاب کوئی
- 58 پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی
- 59 نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے
- 60 نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے
- 61 مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
- 62 مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں
- 63 میرے دل میں اتر گیا سورج
- 64 میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
- 65 میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے
- 66 میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں
- 67 کس لئے کیجے بزم آرائی
- 68 کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوں
- 69 خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم
- 70 کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا
- 71 کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے
- 72 کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے
- 73 جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو
- 74 جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو
- 75 جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
- 76 جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو
- 77 ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
- 78 ہمارے دل میں اب تلخی نہیں ہے
- 79 ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
- 80 ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسے
- 81 غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے
- 82 دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
- 83 دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھول
- 84 دل کا ہر درد کھو گیا جیسے
- 85 دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں
- 86 درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے
- 87 درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
- 88 درد اپناتا ہے پرائے کون
- 89 بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا
- 90 بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے
- 91 ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے
- 92 آج میں نے اپنا پھر سودا کیا