search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
جاوید اختر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے
آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
کبھی یوں بھی تو ہو
میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔
کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئے
پرستار
آثار قدیمہ
بیمار کی رات
مری دعا ہے
ہمسائے کے نام
کچی بستی
''میرا آنگن میرا پیڑ''
کائنات
ایک شاعر دوست سے
معمہ
دل
جہنمی
برگد
بے گھر
ایک مہرے کا سفر
عجیب قصہ ہے
الجھن
اعتراف
آرزو کے مسافر
میلے
شبانہ
بھوک
پندرہ اگست
دوراہا
نیا حکم نامہ
وہ کمرہ یاد آتا ہے
عجیب آدمی تھا وہ
آنسو
دشواری
بنجارہ
یہ کھیل کیا ہے
وقت
زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا
تمنا پھر مچل جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی
ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب
یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں
یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا
یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہا
یہی حالات ابتدا سے رہے
یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا
وہ زمانہ گزر گیا کب کا
وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے
سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاند
شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب
شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
سچ یہ ہے بیکار ہمیں غم ہوتا ہے
ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے
پیاس کی کیسے لائے تاب کوئی
پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی
نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے
نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں
میرے دل میں اتر گیا سورج
میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے
میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں
کس لئے کیجے بزم آرائی
کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوں
خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم
کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا
کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے
جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو
ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
ہمارے دل میں اب تلخی نہیں ہے
ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسے
غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے
دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھول
دل کا ہر درد کھو گیا جیسے
دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں
درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے
درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
درد اپناتا ہے پرائے کون
بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا
بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے
ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے
آج میں نے اپنا پھر سودا کیا