اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں
وہ سبھی لوگ جو اچھے سے مجھے جانتے ہیں
عام لوگوں میں اداسی ہے تعارف میرا
اور شاعر مرے لہجے سے مجھے جانتے ہیں
سونے والوں سے بھی نسبت کوئی ہوگی میری
جاگنے والے تو گریے سے مجھے جانتے ہیں
سب نے رکھی ہوئی ہے کوئی نشانی میری
جیسے کچھ آنکھ کے حلقے سے مجھے جانتے ہیں
میں کسی اور تعلق سے انہیں دیکھتا ہوں
وہ کسی اور علاقے سے مجھے جانتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ مجھے لوگ نہیں جان سکے
خاص کر جو بڑے دعوے سے مجھے جانتے ہیں
جواد شیخ