جواد شیخ

شاعر

تعارف شاعری

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا
دل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا
خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیری
دیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا
فتح مندی کا جو اک رنگ ہے اس چہرے پر
سرخ روئی سے نہیں دل شکنی سے آیا
ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیں
اس کو عجلت تھی سو بے راہروی سے آیا
اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوں
مجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا
موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جوادؔ
جو مجھے اس کی توجہ میں کمی سے آیا

جواد شیخ