جواد شیخ

شاعر

تعارف شاعری

ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے

ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے
اک تو معیار بھی تھا دوسرا سستے پڑتے
عشق کو سہل تو ہم بھی نہیں کہتے لیکن
ہو ہی جاتا اگر اس کام کے پیچھے پڑتے
وہ بھی کچھ خاص توجہ سے کہاں سنتا ہے
ہم بھی ہر بات بتاتے نہیں پورے پڑتے
کچھ تو ہے جو اسے ویران کیے رکھتا ہے
ورنہ ایسے ہی کسی کو نہیں حلقے پڑتے
ہاں مگر اب تری تصویر سے وہ ربط نہیں
اک نظر دیکھ تو لیتا ہوں نکلتے پڑتے
خواب میں بھی میں پہنچتا نہیں پر دیکھتا ہوں
خود کو اپنی طرف آتا ہوا گرتے پڑتے

جواد شیخ