کلامِ شاعر
- 01 میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو
- 02 تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟
- 03 عرض ِ اَلم بہ طرز ِ تماشا بھی چاہیے
- 04 دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیے
- 05 مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
- 06 کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
- 07 تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا
- 08 ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی
- 09 ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے
- 10 یہ غم تو ہے سو ہے کہ غریب الدیار ہوں
- 11 ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوا
- 12 ہجر کی راہ کسی کے لیے آسان نہیں
- 13 وہ مرے ساتھ نہ چل پائے گا (ردیف .. ے)
- 14 سنبھل نہیں گئی حضرت درست ہو گئی ہے
- 15 بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے
- 16 ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا
- 17 دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے
- 18 اونچی آواز میں گانے کے لیے ہوتا ہے
- 19 تم اگر سیکھنا چاہو مجھے بتلا دینا
- 20 کسی کی بات بہت سننے والی ہوتی ہے (ردیف .. ی)
- 21 اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں
- 22 جانے کس سمت سے آتی ہے اچانک تری یاد (ردیف .. ے)
- 23 مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے
- 24 نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری
- 25 ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے
- 26 ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
- 27 ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے
- 28 تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں
- 29 نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے
- 30 اس نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے
- 31 کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے
- 32 کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو
- 33 نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
- 34 غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا
- 35 داد تو بعد میں کمائیں گے
- 36 درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے
- 37 جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
- 38 ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا
- 39 سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو
- 40 عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے
- 41 مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات
- 42 نہ سہی عیش، گزارا ہی سہی
- 43 ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں
- 44 مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
- 45 تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے
- 46 یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
- 47 ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
- 48 میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو
- 49 ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
- 50 عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
- 51 آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
- 52 کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
- 53 میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو