search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
جواد شیخ
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو
تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟
عرض ِ اَلم بہ طرز ِ تماشا بھی چاہیے
دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیے
مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا
ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی
ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے
یہ غم تو ہے سو ہے کہ غریب الدیار ہوں
ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوا
ہجر کی راہ کسی کے لیے آسان نہیں
وہ مرے ساتھ نہ چل پائے گا (ردیف .. ے)
سنبھل نہیں گئی حضرت درست ہو گئی ہے
بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے
ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا
دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے
اونچی آواز میں گانے کے لیے ہوتا ہے
تم اگر سیکھنا چاہو مجھے بتلا دینا
کسی کی بات بہت سننے والی ہوتی ہے (ردیف .. ی)
اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں
جانے کس سمت سے آتی ہے اچانک تری یاد (ردیف .. ے)
مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے
نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری
ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے
ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں
نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے
اس نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے
کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے
کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو
نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا
داد تو بعد میں کمائیں گے
درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا
سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو
عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے
مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات
نہ سہی عیش، گزارا ہی سہی
ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں
مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے
یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو