کیف بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

کیف بھوپالی اردو ادب کے اُن معتبر اور باوقار شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر اثر انگیز شاعری سے اہلِ ذوق کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔ ان کا اصل نام خواجہ محمد ادریس تھا اور وہ 20 فروری 1917ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ علمی و ادبی ماحول میں پرورش پانے والے کیف بھوپالی نے ابتدا ہی سے شعر و ادب کی طرف رغبت اختیار کی اور رفتہ رفتہ اردو غزل کے ایک منفرد اور پہچانے جانے والے لہجے کے حامل شاعر کے طور پر سامنے آئے۔

کیف بھوپالی کی شاعری کی نمایاں خصوصیت اس کی سادگی، خلوص اور فکری گہرائی ہے۔ ان کے اشعار میں محبت، تنہائی، زندگی کی ناپائیداری اور انسانی احساسات نہایت شائستگی اور وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ مشاعروں کے مقبول شاعر تھے اور ان کا کلام سننے والوں پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔ ادبی دنیا کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلمی شاعری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور خاص طور پر فلم پاکیزہ کے گیتوں نے انہیں برصغیر میں وسیع شہرت عطا کی۔

ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ کیف بھوپالی کی شخصیت نہایت منکسر المزاج اور شفیق تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنے معاصرین میں بے حد محترم سمجھے جاتے تھے۔ ان کی بیٹی پروین کیف بھی ایک معروف شاعرہ ہیں جو اس ادبی ورثے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ 24 جولائی 1991ء کو ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی اردو ادب میں زندہ ہے اور محبت و احساس کی ترجمان بن کر نئی نسل کو متاثر کر رہی ہے۔