search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
کیف بھوپالی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میں
گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا
جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہے
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے
اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے
جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے
ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے
کام یہی ہے شام سویرے
تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
جس پہ تری شمشیر نہیں ہے
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے
یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
چلو دلدار چلو
ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے