کلامِ شاعر
- 01 تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میں
- 02 گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا
- 03 جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہے
- 04 خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے
- 05 اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے
- 06 جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں
- 07 تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
- 08 تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے
- 09 در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
- 10 اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے
- 11 ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
- 12 تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
- 13 ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے
- 14 کام یہی ہے شام سویرے
- 15 تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
- 16 بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
- 17 جس پہ تری شمشیر نہیں ہے
- 18 نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
- 19 داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
- 20 کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
- 21 سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے
- 22 یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
- 23 چلو دلدار چلو
- 24 ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
- 25 کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
- 26 تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
- 27 صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے