کیفی اعظمی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

کیفی اعظمی (اصل نام: سیّد اطہر حسین رضوی) اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فکری جدوجہد کو یکجا کر کے ایک بھرپور ادبی و سماجی روایت قائم کی۔ وہ 14 جنوری 1919ء کو مجواں، ضلع اعظم گڑھ (اترپردیش) میں ایک مذہبی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے شغف تھا اور صرف 11 برس کی عمر میں پہلی غزل کہی جو بعد میں بیگم اختر کی آواز سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچی۔ ابتدائی تعلیم مذہبی ادارے میں حاصل کی، مگر نوجوانی میں ہی سیاسی شعور بیدار ہوا اور 1942ء کی تحریکِ ترکِ موالات کے دوران رسمی تعلیم ترک کر کے عملی جدوجہد کی راہ اختیار کی۔ اسی زمانے میں وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے وابستہ ہوئے اور ان کی شخصیت میں شاعر اور انقلابی یکجا ہو گئے۔

ادبی اعتبار سے کیفی اعظمی ترقی پسند تحریک کے نمایاں ستون، Progressive Writers’ Association اور Indian People’s Theatre Association (IPTA) کے سرگرم رکن رہے۔ ابتدا میں غزل کہی، مگر جلد ہی نظم کو اظہار کا ذریعہ بنایا اور اپنی شاعری کو عوامی دکھ درد، سماجی ناانصافی، طبقاتی کشمکش، عورت کے مقام اور انسانی برابری جیسے موضوعات سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں “جھَنکار”، “آخرِ شب”، “آوارہ سجدے”، “کیفیات”، “نئی گلستاں” اور “دوسرا بن باس” شامل ہیں، جب کہ عورت، مکان، دائرہ، سانپ اور بہروپنی جیسی نظمیں اردو نظم کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف فکری گہرائی رکھتی ہے بلکہ سادہ، توانا اور براہِ راست اندازِ بیان کے باعث عوام و خواص دونوں میں مقبول رہی۔

کیفی اعظمی نے فلمی دنیا میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں اور اردو شاعری کو ہندوستانی سنیما کے ذریعے کروڑوں دلوں تک پہنچایا۔ “کاغذ کے پھول”، “انوپما”، “پاکیزہ” اور دیگر فلموں کے لازوال نغمات ان کے تخلیقی کمال کا ثبوت ہیں، جب کہ فلم “گرم ہوا” کے لیے کہانی، اسکرین پلے اور مکالمے پر انہیں قومی فلم ایوارڈ ملا۔ ان کی ادبی و ثقافتی خدمات کے اعتراف میں پدم شری (1974)، سہتیہ اکادمی ایوارڈ (1975) اور سہتیہ اکادمی فیلوشپ (2002) سمیت متعدد اعزازات دیے گئے۔ ذاتی زندگی میں وہ معروف اداکارہ و تھیٹر فنکارہ شوقت اعظمی کے شریکِ حیات اور شبانہ اعظمی کے والد تھے۔ 10 مئی 2002ء کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری اور فکر آج بھی اردو ادب میں انسان دوستی، مزاحمت اور سماجی شعور کی روشن علامت کے طور پر زندہ ہے۔