جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے
دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گے
اندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے
دلاسے ان کے جو درد آشنائے غم نہیں ہوں گے
نمک ہی ہوں گے دل کے زخم پر مرہم نہیں ہوں گے
اگر بڑھتا رہا یوں ہی یہ سودائے ستم گاری
تمہی رسوا سر بازار ہو گے ہم نہیں ہوں گے
جناب شیخ پر افسوس ہے ہم نے تو سمجھا تھا
حرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہوں گے
ادھر آؤ تمہاری زلف ہم آراستہ کر دیں
جو گیسو ہم سنواریں گے کبھی برہم نہیں ہوں گے
اگرچہ عشق میں مرنے کا خطرہ ہی زیادہ ہے
مگر مرنے کے ڈر سے مرنے والے کم نہیں ہوں گے
کلیم عاجز