اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
فصل بہار جس کے ہاں ایک یہ گل فروش ہے
بخت سیہ برنگ شب نت ہی گلیم پوش ہے
شمع بھی اپنے ہاں اگر ہے تو سدا خموش ہے
خلوت دل دل کر دیا اپنے حواس میں خلل
حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے
ہووے تو درمیان سے اپنے تئیں اٹھائیے
بار نہیں ہے اور کچھ سر ہی وبال دوش ہے
نالہ و آہ کیجیے خون جگر ہی پیجیے
عہد شباب کہتے ہیں موسم ناؤ نوش ہے
بے خبروں کو پھر کہیں دست قضا نہ چھیڑ تو
مثل دہل ہر ایک میں ورنہ بھرا خروش ہے
غیر ملال زاہدا کیا ہے طریق زہد میں
دل ہو شگفتہ جس جگہ کوچۂ مے فروش ہے
اپنے تئیں تو کام کچھ خرقۂ و جامہ سے نہیں
دردؔ اگر لباس ہے دیدۂ عیب پوش ہے
خواجہ میر درد