کلامِ شاعر
- 01 ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو
- 02 سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
- 03 آتش عشق جی جلاتی ہے
- 04 اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
- 05 سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو
- 06 مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
- 07 یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا
- 08 سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
- 09 وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے
- 10 قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی
- 11 یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں
- 12 مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے
- 13 یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے
- 14 مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
- 15 تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
- 16 تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
- 17 ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
- 18 تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
- 19 ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
- 20 اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
- 21 ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے
- 22 اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
- 23 جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
- 24 انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا
- 25 چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم