search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
خواجہ میر درد
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
آتش عشق جی جلاتی ہے
اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو
مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے
قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی
یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں
مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے
یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم