کشور ناہید

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

کشور ناہید اردو ادب کی اُن توانا اور باوقار آوازوں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے شاعری کو محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماجی شعور، مزاحمت اور نسائی خود آگہی کا وسیلہ بنایا۔ وہ 1940ء میں بلندشہر، اتر پردیش (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئیں اور ہجرت کے بعد پاکستان میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے اردو اور فارسی کی ادبی تعلیم کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ ابتدا ہی سے ان کی شاعری میں عورت کی شناخت، جبر کے خلاف احتجاج، آزادیٔ اظہار اور انسانی وقار جیسے موضوعات نمایاں رہے، جس نے انہیں اردو کی صفِ اوّل کی شاعرہ کے طور پر منوایا۔

کشور ناہید کا ادبی سفر نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ لبِ گویا 1968ء میں شائع ہوا جس پر انہیں آدم جی ادبی انعام ملا۔ اس کے بعددشت قیس میں لیلی، میں پہلے جنم میں رات تھی، عورت خواب اور خاک کے درمیان، بے نام مسافت، اور بری عورت کی کتھا جیسی اہم مطبوعات سامنے آئیں جنہوں نے اردو ادب میں نسائی بیانیے کو ایک مضبوط فکری اساس دی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملکی و بین الاقوامی سطح پر متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں آدم جی ادبی انعام، منڈیلا پرائز، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کا کمالِ فن ایوارڈ اور ستارۂ امتیاز شامل ہیں۔

موجودہ دور میں کشور ناہید عملی طور پر فعال ادبی و فکری کردار ادا کرنے والی سینئر ادیبہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ اگرچہ وہ اب مستقل سرکاری عہدوں سے وابستہ نہیں رہیں، تاہم ان کی مصروفیات میں ادبی تقاریب میں شرکت، مکالماتی نشستیں، شاعری و یادداشتوں پر مبنی تحریر، اور نوجوان لکھنے والوں کی فکری رہنمائی شامل ہے۔ وہ آج بھی عورت کے سماجی حقوق، آزادیٔ اظہار اور جمہوری قدروں پر کھل کر اظہارِ خیال کرتی ہیں، اور یوں ان کی شخصیت محض ایک شاعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری روایت کی علامت بن چکی ہے۔