خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا
کاسہ ہاتھوں میں لیے گھر میں بھی پھرنا اس کا
دل دکھا کے کبھی ہنسنا کبھی رونا اس کا
میرے آنگن میں لکھا تھا نہیں بسنا اس کا
اس نے تنہائی میں بھی انجمن آرائی کی
چاند نے دیکھ لیا آنکھوں کو بھرنا اس کا
میں نے دیکھا ہے سر شام اداسی کا خرام
پاؤں میں چھالے پہن کے نہ ٹھہرنا اس کا
آئنہ دیکھنا منظور نہیں تھا اس کو
لطف دیتا تھا ہوا بن کے گزرنا اس کا
ہر خلش آن کے رکتی تھی مری بانہوں میں
زندگی دیکھتی رہتی تھی تڑپنا اس کا
ہے عجب طرز ملاقات عجب طرز سفر
پاس آ کے نہ ٹھہرنا نہ گزرنا اس کا
کشور ناہید