وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے
ُسن ہی نہیں رہے ہیں دلائل دماغ کے
یہ عشق کا خلل بھی اگر آگیا تو کیا
ویسے بھی سینکڑوں ہیں مسائل دماغ کے
کیا ہے اگر وہ آکے کہے " تم سے پیار ہے"
اور کر دے سارے وسوسے زائل ، دماغ کے
ہم خود ہی چاہتے تھے ہرا ہی رہے فتور
سو زخم لاعلاج ہیں گھائل دماغ کے
شہرِ جنوں کو جاتے ہوئے رک گئے تھے ہم
کچھ مشورے تھے راہ میں حائل دماغ کے
کومل جوئیہ