اس نے کہا تم میری پریت ہو ؟
میں نے کہا ہم م م اور تم میرا من میت ہو ۔
اس نے کہا ہونٹوں پہ میرے گیت ؟
میں نے کہا ہر دم چاہے ہار رہی یا جیت ۔
اس نے کہا کبھی یاد آئی
میں نے کہا اک پل نہ بھلا پائی
اس نے کہا یاد کیا تو کیا
میں نے کہا چند لفظ لکھے ، شعر کہا
اس نے کہا کبھی پکارا مجھے اکیلے میں
میں نے کہا ہاں ہر رات کے اندھیرے میں
اس نے کہا اور دن کیسے کاٹے بھلا
میں نے کہا ہر دن کی کتھا ہے جدا جدا
اس نے کہا اب رنگ کون سا بھاتا ہے
میں نے کہا وہی جومجھے دیکھ کے تمہاری آنکھوں میں آتا ہے
اس نے کہا بھلا کون سا کہو تو
میں نے کہا پیار، کا انکار کا ،کبھی غصہ اور کبھی اقرار کا
اس نے کہا یہ سنکر میرے دل میں ہوئی ہے دھڑک
میں نے کہا پگلے یہ تو تھی میری چوڑیوں کی کھنک
اس نے کہا آج آسماں پہ یہ رنگ کیسے
میں نے کہا لگتے ہیں نا میرے پلو کی دھنک جیسے
اس نے کہا دیکھو کیسے کِھلی پڑی ہے تمہاری رنگت
میں نے کہا ہاں نا جب سے ملی ہے تمہاری سنگت
اس نے کہا مجھے نہ ملا پھر کوئی تم سا
میں نے ہنس کر کہا بھلا کیوں چاہیے تھا کوئی ہم سا ؟؟؟
اس نے کہا میں تمہارے بن ادھورا رہا
میں نے کہا اور اب تم نے مجھے پورا کیا
اس نے کہا تمہارا خیال دل سے نکلتا نہیں ہے
میں نے کہا کیوں دھڑکن ہوں جو میرے یہ بغیر چلتا نہیں ہے
اس نے کہا دیکھو نہ یوں بھاؤ دکھاؤ
میں نے کہا تمہاری چاہ ہوں تو کیوں نہ اِتراؤں
اس نے کہا اب کے گیا تو لوٹ کے نہ آؤں گا
میں نے کہا ایسااااا اچھا چلو تمھیں جانے دیا
اس نے کہا سنتے ہیں ہجر کٹتا نہیں
میں نے کہا وصل بھی تو ملتا نہیں
اس نے کہا ہجر اتنا ہی کیا آسان ہے
میں نے کہا نہ نہ تم میں تو میری جان ہے
اس نے کہا تو پھر یہ کیسا ہے غرور ؟؟؟
میں نے کہا اگر جا پائیں تو پھر جائیے حضور ۔۔۔
اس نے کہا اتنا یقین ؟؟؟
میں نے کہا ہاں ! کیونکہ ایسا کبھی ممکن نہیں
اس نے کہا پچھتاؤ گی
میں نے کہا تو کیا تم کو نہ یاد آؤں گی
اس نے کہا ۔۔لو اب میں چلا کہو کیا اب جی پاؤ گی
میں نے کہا نہیں بالکل نہیں لیکن تِل تِل مر کے جی کےدکھلاؤں گی ۔۔۔
ماہ نور